ایک بظاہر سادہ اور خوبصورت پزل گیم ڈاؤن لوڈ کریں، اور پہلی ہی بار اوپن کرنے پر وہ آپ سے فون کی کانٹیکٹ لسٹ، مائیکرو فون اور لوکیشن کی اجازت مانگنا شروع کر دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رنگ برنگی بالز یا بلاکس جوڑنے والی گیم کو آپ کی ذاتی معلومات یا دوستوں کے نمبرز کی کیا ضرورت ہے؟ اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایپ پرمیشنز کا غیر ضروری پھیلاؤ یا 'پرمیشن بلوٹ' کہا جاتا ہے۔ صارف اکثر سوچے سمجھے بغیر ان شرائط کو قبول کر لیتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے ایک بڑا تجارتی اور اشتہاری نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔
بظاہر ایک عام گیم کے لیے صرف آپ کی اسکرین اور اسپرائٹس پر عمل درآمد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ڈویلپرز مفت گیمز پیش کر کے پیسہ کمانے کے لیے ایڈورٹائزنگ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کٹس (SDKs) کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ ایڈ نیٹ ورکس ڈیٹا اکٹھا کرنے کے پیاسے ہوتے ہیں، کیونکہ جتنا زیادہ اور درست ڈیٹا ہوگا، اشتہار اتنا ہی مہنگا فروخت ہوگا۔
جب کوئی مفت پزل گیم آپ سے رسائی مانگتی ہے، تو وہ اصل میں گیم کا حصہ نہیں بلکہ اس میں چھپے اشتہاری نیٹ ورک کی طلب ہوتی ہے۔
اشتہاری نیٹ ورکس آپ کی لوکیشن اور فون کے دیگر خدوخال کے ذریعے ایک الگ ڈیجیٹل پروفائل تیار کرتے ہیں۔ کانٹیکٹ لسٹ کا کنکشن آپ کے سماجی دائرے کو سمجھنے اور سوشل گراف بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح نیٹ ورکس کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا اشتہار آپ کو اور آپ سے جڑے افراد کو زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔
سمارٹ فونز میں اب جدید سیکیورٹی فیچرز موجود ہیں۔ گیم انسٹال کرتے وقت صرف وہی اجازتیں دیں جو کھیل کا بنیادی حصہ ہوں۔ مثال کے طور پر، آف لائن پزل گیم کے لیے لوکیشن یا کانٹیکٹس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ آپ اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر کسی بھی وقت حساس ایپ پرمیشنز کو منسوخ کر سکتے ہیں اور اپنی سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی کسی گیم کو غیر ضروری اجازتیں دینے سے انکار کیا ہے؟ ذیل میں تبصروں میں اپنی رائے اور تجربات ضرور شیئر کریں!









